Jaun Elia

جون ایلیا

آپ اپنا غبار تھے ہم تو

یاد تھے یادگار تھے ہم تو


پردگی ہم سے کیوں رکھا پردہ

تیرے ہی پردہ دار تھے ہم تو


وقت کی دھوپ میں تمہارے لیے

شجر سایہ دار تھے ہم تو


اڑے جاتے ہیں دھول کے مانند

آندھیوں پر سوار تھے ہم تو


ہم نے کیوں خود پہ اعتبار کیا

سخت بے اعتبار تھے ہم تو


شرم ہے اپنی بار باری کی

بے سبب بار بار تھے ہم تو


کیوں ہمیں کر دیا گیا مجبور

خود ہی بے اختیار تھے ہم تو


تم نے کیسے بھلا دیا ہم کو

تم سے ہی مستعار تھے ہم تو


خوش نہ آیا ہمیں جیے جانا

لمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو


سہہ بھی لیتے ہمارے طعنوں کو

جان من جاں نثار تھے ہم تو


خود کو دوران حال میں اپنے

بے طرح ناگوار تھے ہم تو


تم نے ہم کو بھی کر دیا برباد

نادر روزگار تھے ہم تو


ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا

جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو



www.000webhost.com