Jaun Elia

جون ایلیا

آخری بار آہ کر لی ہے

میں نے خود سے نباہ کر لی ہے


اپنے سر اک بلا تو لینی تھی

میں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے


دن بھلا کس طرح گزارو گے

وصل کی شب بھی اب گزر لی ہے


جاں نثاروں پہ وار کیا کرنا

میں نے بس ہاتھ میں سپر لی ہے


جو بھی مانگو ادھار دوں گا میں

اس گلی میں دکان کر لی ہے


میرا کشکول کب سے خالی تھا

میں نے اس میں شراب بھر لی ہے


اور تو کچھ نہیں کیا میں نے

اپنی حالت تباہ کر لی ہے


شیخ آیا تھا محتسب کو لیے

میں نے بھی ان کی وہ خبر لی ہے



www.000webhost.com