Jaun Elia

جون ایلیا

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے

یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے


سخن میرا اداسی ہے سر شام

جو خاموشی پہ طاری ہو گئی ہے


بہت ہی خوش ہے دل اپنے کیے پر

زمانے بھر میں خواری ہو گئی ہے


وہ نازک لب ہے اب جانے ہی والا

مری آواز بھاری ہو گئی ہے


دل اب دنیا پہ لعنت کر کہ اس کی

بہت خدمت گزاری ہو گئی ہے


یقیں معذور ہے اب اور گماں بھی

بڑی بے روزگاری ہو گئی ہے


وہ اک باد شمالی رنگ جو تھی

شمیم اس کی سواری ہو گئی ہے


مرے پاس آ کے خنجر بھونک دے تو

بہت نیزہ گزاری ہو گئی ہے



www.000webhost.com