Jaun Elia

جون ایلیا

عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں

کہ نہ اس شخص کو بھولیں نہ اسے یاد رکھیں


عہد اس کوچۂ دل سے ہے سو اس کوچے میں

ہے کوئی اپنی جگہ ہم جسے برباد رکھیں


کیا کہیں کتنے ہی نکتے ہیں جو برتے نہ گئے

خوش بدن عشق کریں اور ہمیں استاد رکھیں


بے ستوں اک نواحی میں ہے شہر دل کی

تیشہ انعام کریں اور کوئی فرہاد رکھیں


آشیانہ کوئی اپنا نہیں پر شوق یہ ہے

اک قفس لائیں کہیں سے کوئی صیاد رکھیں


ہم کو انفاس کی اپنے ہے عمارت کرنی

اس عمارت کی لبوں پر ترے بنیاد رکھیں



www.000webhost.com