Jaun Elia

جون ایلیا

عیش امید ہی سے خطرہ ہے

دل کو اب دل دہی سے خطرہ ہے


ہے کچھ ایسا کہ اس کی جلوت میں

ہمیں اپنی کمی سے خطرہ ہے


جس کے آغوش کا ہوں دیوانہ

اس کے آغوش ہی سے خطرہ ہے


یاد کی دھوپ تو ہے روز کی بات

ہاں مجھے چاندنی سے خطرہ ہے


ہے عجب کچھ معاملہ درپیش

عقل کو آگہی سے خطرہ ہے


شہر غدار جان لے کہ تجھے

ایک امروہوی سے خطرہ ہے


ہے عجب طور حالت گریہ

کہ مژہ کو نمی سے خطرہ ہے


حال خوش لکھنؤ کا دلی کا

بس انہیں مصحفیؔ سے خطرہ ہے


آسمانوں میں ہے خدا تنہا

اور ہر آدمی سے خطرہ ہے


میں کہوں کس طرح یہ بات اس سے

تجھ کو جانم مجھی سے خطرہ ہے


آج بھی اے کنار بان مجھے

تیری اک سانولی سے خطرہ ہے


ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤں

اپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے


جونؔ ہی تو ہے جونؔ کے درپئے

میرؔ کو میرؔ ہی سے خطرہ ہے


اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے



www.000webhost.com