Jaun Elia

جون ایلیا

ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں

کوئی خاموش ہو گیا ہے کہیں


ہے کچھ ایسا کہ جیسے یہ سب کچھ

اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے کہیں


تجھ کو کیا ہو گیا کہ چیزوں کو

کہیں رکھتا ہے ڈھونڈھتا ہے کہیں


جو یہاں سے کہیں نہ جاتا تھا

وہ یہاں سے چلا گیا ہے کہیں


آج شمشان کی سی بو ہے یہاں

کیا کوئی جسم جل رہا ہے کہیں


ہم کسی کے نہیں جہاں کے سوا

ایسی وہ خاص بات کیا ہے کہیں


تو مجھے ڈھونڈ میں تجھے ڈھونڈوں

کوئی ہم میں سے رہ گیا ہے کہیں


کتنی وحشت ہے درمیان ہجوم

جس کو دیکھو گیا ہوا ہے کہیں


میں تو اب شہر میں کہیں بھی نہیں

کیا مرا نام بھی لکھا ہے کہیں


اسی کمرے سے کوئی ہو کے وداع

اسی کمرے میں چھپ گیا ہے کہیں


مل کے ہر شخص سے ہوا محسوس

مجھ سے یہ شخص مل چکا ہے کہیں



www.000webhost.com