Jaun Elia

جون ایلیا

اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا

سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا


ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں

ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا


وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے

ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا


وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی

اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا


تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی وعدے اور پھر دن گننا

آنا تھا جانے والے کو جانے والا زندہ تھا


دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی

تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا


پیلے پتوں کو سہ پہر کی وحشت پرسا دیتی تھی

آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس اک کوا زندہ تھا



www.000webhost.com