Jaun Elia

جون ایلیا

اب کسی سے مرا حساب نہیں

میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں


خون کے گھونٹ پی رہا ہوں میں

یہ مرا خون ہے شراب نہیں


میں شرابی ہوں میری آس نہ چھین

تو مری آس ہے سراب نہیں


نوچ پھینکے لبوں سے میں نے سوال

طاقت شوخئ جواب نہیں


اب تو پنجاب بھی نہیں پنجاب

اور خود جیسا اب دو آب نہیں


غم ابد کا نہیں ہے آن کا ہے

اور اس کا کوئی حساب نہیں


بودش اک رو ہے ایک رو یعنی

اس کی فطرت میں انقلاب نہیں



www.000webhost.com