Jaun Elia

جون ایلیا


غزل

اب کسی سے مرا حساب نہیں


اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا


ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں


ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے


آپ اپنا غبار تھے ہم تو


اپنا خاکہ لگتا ہوں


اپنے سب یار کام کر رہے ہیں


اپنی منزل کا راستہ بھیجو


آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا


آخری بار آہ کر لی ہے


آدمی وقت پر گیا ہوگا


اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں


اس نے ہم کو گمان میں رکھا


اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا


اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں


انقلاب ایک خواب ہے سو ہے


اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں


اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئے


اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا


ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں


ایک سایہ مرا مسیحا تھا


ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے


ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے


بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی


باہر گزار دی کبھی اندر بھی آئیں گے


بجا ارشاد فرمایا گیا ہے


بد دلی میں بے قراری کو قرار آیا تو کیا


بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں


بزم سے جب نگار اٹھتا ہے


بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میں


بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا


بھٹکتا پھر رہا ہوں جستجو بن


بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے


بے قراری سی بے قراری ہے


تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میں


تجھ میں پڑا ہوا ہوں حرکت نہیں ہے مجھ میں


تشنگی نے سراب ہی لکھا


تم سے بھی اب تو جا چکا ہوں میں


تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو


تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو


تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے


ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں


جانے کہاں گیا ہے وہ وہ جو ابھی یہاں تھا


جاؤ قرار بے دلاں شام بخیر شب بخیر


جز گماں اور تھا ہی کیا میرا


جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے


جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نام


جو ہوا جونؔ وہ ہوا بھی نہیں


جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی


چلو باد بہاری جا رہی ہے


حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی


حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے


خواب کی حالتوں کے ساتھ تیری حکایتوں میں ہیں


خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے


خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی


خود سے رشتے رہے کہاں ان کے


خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں


خون تھوکے گی زندگی کب تک


دل برباد کو آباد کیا ہے میں نے


دل پریشاں ہے کیا کیا جائے


دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں


دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو


دل سے ہے بہت گریز پا تو


دل کا دیار خواب میں دور تلک گزر رہا


دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے


دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش


دل کی تکلیف کم نہیں کرتے


دل کی ہر بات دھیان میں گزری


دل گماں تھا گمانیاں تھے ہم


دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لو


دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا


دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں


دولت دہر سب لٹائی ہے


دید کی ایک آن میں کار دوام ہو گیا


ذکر گل ہو خار کی باتیں کریں


رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے


روٹھا تھا تجھ سے یعنی خود اپنی خوشی سے میں


روح پیاسی کہاں سے آتی ہے


زخم امید بھر گیا کب کا


زندگی کیا ہے اک کہانی ہے


سارے رشتے تباہ کر آیا


سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں


سر صحرا حباب بیچے ہیں


سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں


سلسلہ جنباں اک تنہا سے روح کسی تنہا کی تھی


سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے


سوچا ہے کہ اب کار مسیحا نہ کریں گے


سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی


شاخ امید جل گئی ہوگی


شام تک میری بیکلی ہے شراب


شام تھی اور برگ و گل شل تھے مگر صبا بھی تھی


شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہم راہ چلیں


شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیں


شمشیر میری، میری سپر کس کے پاس ہے


شہر بہ شہر کر سفر زاد سفر لیے بغیر


شوق کا بار اتار آیا ہوں


شوق کا رنگ بجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے


ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا


طفلان کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں


عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں


عجب حالت ہماری ہو گئی ہے


عمر گزرے گی امتحان میں کیا


عیش امید ہی سے خطرہ ہے


غم ہے بے ماجرا کئی دن سے


فرقت میں وصلت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں


کام کی بات میں نے کی ہی نہیں


کام مجھ سے کوئی ہوا ہی نہیں


کب اس کا وصال چاہیے تھا


کبھی جب مدتوں کے بعد اس کا سامنا ہوگا


کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو


کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے


کس سے اظہار مدعا کیجے


کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو


کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو


کون سے شوق کس ہوس کا نہیں


کوئے جاناں میں اور کیا مانگو


کوئی دم بھی میں کب اندر رہا ہوں


کیا کہیں تم سے بود و باش اپنی


کیا ہو گیا ہے گیسوئے خم دار کو ترے


کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے


کیا یقیں اور کیا گماں چپ رہ


کیا یہ آفت نہیں عذاب نہیں


گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا


گزراں ہیں گزرتے رہتے ہیں


گفتگو جب محال کی ہوگی


گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے


گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے


لازم ہے اپنے آپ کی امداد کچھ کروں


لمحے لمحے کی نارسائی ہے


مجھ کو تو گر کے مرنا ہے


مجھے غرض ہے مری جان غل مچانے سے


مسکن ماہ و سال چھوڑ گیا


مسند غم پہ جچ رہا ہوں میں


میں نہ ٹھہروں نہ جان تو ٹھہرے


نام ہی کیا نشاں ہی کیا خواب و خیال ہو گئے


نشۂ شوق رنگ میں تجھ سے جدائی کی گئی


نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چھپا


نہ تو دل کا نہ جاں کا دفتر ہے


نہ کوئی ہجر نہ کوئی وصال ہے شاید


نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی


نہ ہوا نصیب قرار جاں ہوس قرار بھی اب نہیں


نہیں نباہی خوشی سے غمی کو چھوڑ دیا


نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم


ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں تو ملاتے جائیے


ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی


ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھے


ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں


ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں


ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر


ہم رہے پر نہیں رہے آباد


ہم کہاں اور تم کہاں جاناں


ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں


ہو کا عالم ہے یہاں نالہ گروں کے ہوتے


ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے


ہے عجب حال یہ زمانے کا


ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں


وہ جو تھا وہ کبھی ملا ہی نہیں


وہ خیال محال کس کا تھا


وہ کیا کچھ نہ کرنے والے تھے


یاد اسے انتہائی کرتے ہیں


یادوں کا حساب رکھ رہا ہوں


یہ اکثر تلخ کامی سی رہی کیا


یہ پیہم تلخ کامی سی رہی کیا


یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گری



www.000webhost.com